بنگلورو،14؍اکتوبر(ایس او نیوز؍راست) کورونا وائرس ایک وباء ہے اور یہ آفات مِن جانب اللہ ہیں، انسانوں پر نازل کی گئی ہے تاکہ انسان کے اندر اللہ کی قدرت و خشیت کا احساس پیدا ہو اور وہ اپنے خالق کی طرف رجوع کر سکیں۔ لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعدصحت کے اصولوں کا لحاظ کرتے ہوئے شہری سطح کے جماعت اسلامی ہند بنگلور میٹرو کے وابستگانِ جماعت کے پہلے اجتماع عام کا انعقاد کیا گیا۔
اس اجتماع سے جماعت اسلامی کرناٹک کے امیر حلقہ ڈاکٹر سعد بلگامی نے کہا کہ لاگ ڈاؤن کے زمانے میں جب کہ لوگ باہر آنے سے خوف کھارہے تھے تو الحمدللہ جماعت کے کارکنان لوگوں کی تکلیف کو دور کرنے کے جذبہ سے سرشار ہو کرباہر نکل کر عوام کی خدمات میں جٹ گئے۔ وہ متاشرین کی طبی امداد ہو کہ ان کے کھانے پینے کی ضرورت کا مسئلہ۔ وبائی حالات میں جب عوام پریشانی سے جوجھ رہے ہیں بد قسمتی سے حکومت اپنے مخصوص ایجنڈے کو پورا کرنے اور اپنے مقاصد کو حاصل کرنے میں لگی ہوئی ہے، چاہے وہ کورونا کے بہانے تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کی بات ہویا بابری مسجد کے ملزموں کو بَری کرنے کا معاملہ ہو،چاہے وہ آرٹیکل 370کا معاملہ ہویا پھر نیو ایجوکیشن پالیسی ہواور یہاں بنگلور میں پچھلے دنوں ہوئے کشیدہ حالات ہوں، جس کے سبب بہت سارے معصوم افراد کو گرفتار کیا گیاہے۔ جماعت ان نوجوانوں کی رہائی کے سلسلہ میں برابرسنجیدگی سے لگی ہوئی ہے۔
شبیر خان رکن مجلس شوری میٹرو نے بعنوان ’تحریک اسلامی کو سمجھئے۔ موجودہ حالات اور تقاضوں کی روشنی میں‘ پر اظہار خیال کیا۔انہوں نے جماعت اسلامی کا اصل مقصد اقامت دین ہے، یہی اسکا نصب العین ہے،حالات چاہے کیسے بھی ہوں موافق ہوں کہ مخالف ہر حال میں ہمیں یہ کام انجام دینا ہے۔
اجتماع کا آغاز مولانا اقبال احمد قاسمی کے درس قرآن سے ہوا۔ آپ نے سورہ انفال کی آیت کے حوالے سے فرمایا کہ ایک اچھے اور صالح معاشرے کے لئے امانت ودیانت کا چلن اور خیانت سے اجتناب انتہائی ضروری ہے۔ آج سماج میں فساد کا ایک بڑا سبب امانتوں میں خیانت کرنا ہے۔مال ودولت، بیوی بچے،منصب و اقتدار،قول و عمل سب امانت ہے اور اگر انسان ان تمام چیزوں میں حد سے تجاوز کرتا ہے تو وہ خیانت کا مرتکب ہوگا۔ آپ نے مزید فرمایا کہ مال اور بچے انسان کی ضروت ہیں، اگر یہ اللہ کے احکام کے تابع ہوں تو نعمت ہے اور اس کے آخرت کی کھیتی ہے اور اگر یہ احکام خداوندی سے آزاد ہوں تو یہ اس کے لئے فتنہ ہیں۔ شیخ ہارون صفدرناظم شہرنے افتتاحی کلمات پیش کئے۔ مرد و خواتین کی ایک کثیر تعداد اجتماع عام میں شریک رہی۔